بیان القرآن

ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی زندگی کا خلاصہ

"کانسپیریسی تھیوری" کا اردو ترجمہ "سازشی بیانیہ" سے بہتر نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت ایک زبان کے کسی لفظ کا ترجمہ جب دوسری زبان میں کیا جاتا ہے تو بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ مطلب بلکہ مفہوم بھی بالکل ایک جیسا ہو۔ سازشی بیانیہ مکمل طور پر منفی پہلو کو اجاگر کرتا ہے جب کہ کانسپیریسی تھیوری میں کچھ مثبت اشارے بھی موجود ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے تو غالب قوت اپنا بیانیہ پر زور انداز میں سامنے لاتی ہے۔

قرآن مجید میں سورۃ البقرۃ کا ۲۳ واں رکوع اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں روزے سے متعلق تمام مضامین یکجا ہو کر آ گئے ہیں۔ چنانچہ چھ آیات پر مشتمل اس رکوع میں جہاں روزے کا حکم ، اس کی حکمت اس کے تفصیلی احکام بیان ہوئے ہیں وہاں روزی کی عبادت کے لیے خصوصی طور پر ماہِ رمضان کے انتخاب کی حکمت، روزے کا دعا اور رزق حلال سے ربط و تعلق بھی واضح کیا گیا ہے۔

رمضان کا مبارک اور مقدّس مہینہ جن خصوصیات اور محاسن کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے، ان سب کی تفصیل تو اس مضمون میں ناممکن ہے۔ اس موقع پر صرف چند اہم اور نمایاں خصوصیات روزہ، قیام اللیل، اجتماعیت، تلاوت قرآن، دعا، انفاق فی سبیل اللہ، لیلۃ القدر اور اعتکاف کی تشریح اور تقاضوں کو بیان کرتے ہوئے ان کے نتائج اور ثمرات کی طرف توجّہ دلائی جاتی ہے۔

ہم اگر دین و شریعت کی تمام تر تعلیمات کا نچوڑ اور خلاصہ صرف ایک ہی لفظ میں بیان کرنا چاہیں تو وہ لفظ "تقویٰ" ہے۔ یہ جامعیت کبریٰ کا حامل لفظ معانی کا ایک سمندر اپنے من میں سمیٹے ہوئے ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کے معنی بچنے، پرہیز کرنے اور لحاظ کرنے کے ہیں، لیکن وحیٴ محمدی ﷺ کی اصطلاح میں یہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ تعالٰی کے ہمیشہ حاضر و ناضر ہونے کا یقین پیدا کر کے دل میں خیر و شر کی تمیز کی خلش اور خیر کی طرف رغبت اور شر سے نفرت پیدا کر دیتی ہے۔

جس دور میں ہم جی رہے ہیں یہ دور پُر فتن ہے۔ ایک طرف شیطان اپنے پہلے سے زیادہ تیز ہتھیاروں اور مکر و فریب کے نت نئے طریقوں کے ساتھ انسانیت اور خاص طور پر مسلمانوں پر حملہ آور ہے اور یہ حملے رمضان المبارک کی آمد سے پہلے پورا سال ہی جاری رہتے ہیں، جن کے اثرات رمضان المبارک میں بھی مسلمانوں پر غالب رہتے ہیں۔ دوسری طرف نفسِ انسانی پہلے سے کہیں زیادہ غیر تربیت یافتہ اور کمزور ہے۔

"بدر" مدینہ منورہ سے تقریباً ۸۰ میل پر وادی یلیل میں بیضوی شکل کا ایک وسیع میدان ہے – یہ ساڑھے پانچ میل لمبا اور ساڑھے چار میل چوڑا ہے جو پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا۔ یمن اور شام کی تجارتی شاہراہ اسی میدان سے گزرتی تھی۔ مکّہ اور مدینہ کے درمیان آمدورفت بھی اسی میدان سے گزر کر ہوتی تھی۔ اس جگہ کا یہ نام پڑنے کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں پر بدر بن نذر بن کنانہ نے ایک کنواں کھدوایا تھا جس کا پانی اس قدر شفاف تھا کہ اس میں چاند کا عکس نظر آیا کرتا تھا۔

اولاد حق تعالٰی کی ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ نسلِ انسانی کی بقا ، حسب و نسب کے تسلسل اور انسانی و معاشرتی عمارت کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ ایک انسان کے لیے اولاد زندگی کے معاملات میں تقویت کا باعث بنتی ہے جبکہ وفات کے بعد اس کی میراث کی حق دار ٹھہرتی ہے۔ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کا دنیا سے تعلق اگرچہ کم سے کم ضرورت ہی کی حد تک تھا، اس کے باوجود انہیں بھی اولاد کی تمنا اور آرزو رہی۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت زکریا ؑ جیسے اولوالعزم انبیاء کی ان دعاوٴ ں کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے طلبِ اولاد کے سلسلے میں کیں۔

(248) ائتِیَا کا ترجمہ

ثُمَّ استَوَیٰ اِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَان فَقَالَ لَہَا وَلِلاَرضِ ائتِیَا طَوعًا اَو کَرہًا قَالَتَا اَتَینَا طَائِعِینَ۔ (فصلت:11)

”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا ”وجود میں آ جاو، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو“ دونوں نے کہا:ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح“۔ (سید مودودی، جب وجود ہی نہیں تھا تو حکم کیسے دیا جائے گا؟)

”پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اس وقت دھوئیں کی شکل میں تھا، پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام...

محمد عمار خان ناصر / ڈاکٹر سید مطیع الرحمن

(جامع ترمذی کے اسلوب تصنیف اور مختلف احادیث کے مضمون کے حوالے سے سوالات و جوابات)

مطیع سید: صحاح ستہ امت میں بڑی مشہور ہوئیں،ان کو پہلے پڑھا جاتا ہے اور ان پر فوکس بھی کیا جاتا ہے ،حالانکہ ان سے پہلے بھی حدیث کی کتب لکھی گئیں۔ غالبا مسند احمد اور موطا امام محمد ان سے پہلے کی ہیں ۔ کیااہم خصوصیات تھی یا کیا ایسا معیار تھا  جس کی وجہ سے ان کو قبول عام  حاصل ہوا؟

عمار ناصر: صحاح ستہ کی دو چیزیں اہم  ہیں ۔ایک تو یقینی طور پر ان...

(9  اپریل  2021ء  کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب)

ہمارے آئین کی بنیاد اس اعتراف اور تصدیق پر رکھی گئی ہے کہ پوری  کائنات پر اقتدار اعلی اللہ تعالیٰ کا ہے اور اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے؛ اور ریاستی طاقت اور اختیار کا استعمال عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے کیا جائے گا۔ آئین کا دیباچہ مزید یہ کہتا ہے کہ ریاستِ پاکستان میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، برداشت اور سماجی انصاف کا اطلاق اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ اسی طرح اس میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو اپنے مذاہب کی پیروی کرنے، ان...

امریکہ کے صدر مسٹر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا میں یکطرفہ طور پر چار ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ معاہدہ کی مدت کے دوران انخلا مشکل ہے اس لیے اب افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مئی کی بجائے ستمبر کے دوران مکمل ہو گا اور وہ بھی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہو گا۔ اس کے ساتھ جرمنی کے وزیردفاع نے بھی کہا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ستمبر میں ہو گا۔

افغان مسئلہ کا تاریخی تناظر یہ ہے کہ افغانستان میں ۱۹۷۹ء کے آخر میں روسی افواج...

قائداعظم ایک امیر آدمی تھے۔اتنے امیر کہ 1926ء میں ان کا شمار جنوبی ایشیا کے دس سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا تھا۔ان کے چار مکانات کی قدر اگر آج کے حساب سے متعین کی جائے تو1.4 سے1.6ارب ڈالر بنتی ہے۔ قائد اعظم کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟

ڈاکٹر سعد خان کی کتاب ""محمدعلی جناح...دولت‘جائیداد اور وصیت‘‘ اس سوال کا جواب دیتی ہے۔یہی نہیں‘ان کی دولت اورجائیداد کی مکمل تفصیل بھی۔قائد کا تمام سرمایہ‘آمدن‘ جائیدادسب دستاویزی ہیں۔ان کی شخصیت کی طرح‘ شفاف ریکارڈ کے ساتھ۔یہ کتاب پڑھے کئی ماہ گزر چکے لیکن ہنوز سرہانے دھری ہے۔اس کتاب نے...

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر انتظام  مدرسہ الشریعہ ومسجد خدیجۃ الکبری ٰ ہاشمی کالونی، کنگنی والا میں اور   مدرسہ طیبہ ومسجد خورشید، کوروٹانہ میں  سرگرم عمل ہیں۔   الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہدالراشدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا محمدعمار خان ناصر ہیں، جبکہ مولانا محمدعثمان جتوئی، مولانا عبدالرشید، مولانا طبیب الرحمٰن، مولانا محفوظ الرحمٰن، مولانا عبدالوہاب، ، مولانا سفیراللہ ، مولانا کامران حیدر ،مولانااسامہ قاسم، قاری عمرفاروق اور ڈاکٹر محموداحمد پر مشتمل اساتدہ و منتظمین کی ٹیم ان کے ساتھ مصروف کار ہے۔اور معاونین میں حاجی عثمان عمر ہاشمی ،جناب محمدمعظم میر ، جناب محمد مبشر چیمہ،جناب محمدطیب،  جناب یحییٰ میر ...