شریعت نے اس سلسلہ میں تیسرا تعمیری قدم یہ اٹھایا ہے کہ جب بچے بالغ ہو جائیں تو گویا وہ شادی کے مرحلے میں پہنچ چکے ہیں اب ان کی شادی کر دینی چاہیے، کیونکہ اولاً تو ایک شادی شدہ شخص ، خواہ مرد ہو یا عورت، جب اپنے شریک حیات کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو گا تو اس کی جنسی شہوت قابو میں ہو گی۔ ثانیاً جب کبھی جنسی شہوت کا زور ہو گا تو اسے پورا کرنے کا حلال راستہ موجود ہوگا۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اپنے حقیقی بندوں کی ایک خصوصیت یوں بیان فرمائی ہے: وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا‏ (الفرقان : ۶۴) یعنی "اور جو راتیں اپنے ربّ کے آگے سجدہ و قیام میں گزارتے ہیں"۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے اس آیہ کریمہ کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: "اُن کی راتیں نہ عیاشی میں گزرتی ہیں، نہ ناچ گانے میں، نہ لہو و لعب میں، نہ گپوں اور افسانہ گوئیوں میں اور نہ ڈاکے مارنے اور چوریاں کرنے میں۔۔۔۔۔۔

تاریخ برصغیر کا ہر طالب علم اچھی طرح جانتا ہے کہ قادیانیت کا پودا انگریز نے مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے ذریعے اس سرزمین میں کاشت کیا، پھر اس کو پھلنے پھولنے کے بھرپور مواقع مہیا کیے اور اس زہریلے پودے کو پروان چڑھانے کے لیے خود اس کی نگہداشت کی۔ یہ کہنا بھی کوئی انکشاف نہ ہو گا کہ انگریز برصغیر میں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو اپنے اقتدار کے لیے بڑا خطرہ سمجھتا تھا۔۔۔۔

اس بات سے قطع نظر کہ کورونا کی عالمی وبا ایک واقعی اور قدرتی شے ہے یا لیبارٹری میں تخلیق شدہ معاشی ہراسگی اور شیطانی ایجنڈے کا ایک خوفناک ہتھیار، ایک بات اس حالیہ تجربے سے عیاں ہے کہ جب حالات متقاضی ہوں تو بڑے بڑے اور ناممکن العمل فیصلے بھی ممکن۔۔۔۔۔ بلکہ ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ عوام و خواص کو ہفتوں گھروں تک محدود کر دینا، معیشت کے پہیے بیک جنبش قلم روک کر بد ترین معاشی بد حالی کے عوامل کو برداشت کر لینا، ذرائع آمدورفت پر اچانک ایسی بندشیں عائد کرنا کہ جو شخص جہاں ہے وہیں تا اطلاع ثانی پھنس کر رہ جائے ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے فیصلے ہیں کہ جن کا پہلے کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا!

نبی اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں لوگوں کی ضروریات کا اہتمام کس طرح کیا جاتا تھا؟ اس کی تفصیلات میں جانے سے قبل مناسب ہے کہ اختصار کے ساتھ یہ بھی معلوم کر لیا جائے کہ شرعاً بنیادی ضروریات کیا ہیں؟ ان کی مقدار کیا ہے؟ شروعت محمدیہ ﷺ میں ان کی کتنی اہمیت ہے؟ اور اس معاملے میں حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟ ۔۔۔۔

ہم نے مسجد کی امامت کو اس طرح degrade کیا ہے کہ اسے ایک علیحدہ نظام بنا دیا ہے جس کا پورے نظامِ زندگی سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ امامت اپنی جگہ پر ایک پرافیشن بن گیا ہے حالانکہ امامت کی عظمت کے بارے میں تو میں نے ابھی عرض کیا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اپنے زمانے کے خود امام تھے پھر حضرت ابوبکر، عمر، عثمان،علی ؓ مرکزی جگہ پر امام تھے، گورنرز اپنے صوبوں میں امام تھے۔ اس طریقے سے دین، دنیا اور سیاست کو آپس میں جوڑنے والی شے نظام ہے۔۔۔۔

سلسلہ وار دروس قرآن ۔ سورۃ الحج کے آخری رکوع کی روشنی میں

بیان القرآن

خواتیم سورۃ الاعراف کی روشنی میں یعنی سورۃ الاعراف کی آخری گیارہ آیات کی تشریح پر مشتمل ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی چار تقاریر جو ماہ جنوری ۱۹۷۹ء کے دوران ہر جمعہ کی صبح ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئیں۔

دُعا بظاہر ایک دینی اصطلاح ہے اور اہل دنیا اسے نیکوں، نمازیوں اور مولویوں کا وظیفہ گردانتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ غریب، محتاج، سائل اور کمزور لوگوں کا نفسیاتی سہارا۔ یہ بلاشبہ پاکبازوں اور صوفیوں کا وظیفہ ہے اور محتاج اور بے وسیلہ لوگوں کی روحانی ڈھارس، لیکن بات یہاں آ کر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ دعا وہ وظیفہ ہے جو بندے کو احساس بندگی دلاتا اور رحمتِ حق کو مہمیز دیتا ہے۔۔۔۔۔

ماہ صیام اپنی رحمتیں، مغفرتیں اور برکتیں بانٹتا ہوا رخصت ہوا۔ دعا ہے کہ ربّ کریم اپنے بندوں کی عبادات کو درجہ قبولیت عطا فرماتے ہوئے گزشتہ گناہوں سے بخشش کا پروانہ عطا فرمائے۔ آمین! سورۃ البقرہ آیت ۱۸۳ میں روزے کا بنیادی مقصد اور حاصل "تقویٰ" متعین ہوا۔ حضرت اُبی بن کعب ؓ کے الفاظ کی روشنی میں تقویٰ زندگی کی اس روش اور احساس کا نام ہے جس میں بندہ مومن ہر لحظہ اس بات کا دھیان رکھے کہ کہیں اس کا دامن دنیاوی آلائشوں میں اُلجھ کر اپنے رب کی ناراضگی کا سبب نہ بن جائے۔

انسان کی دنیوی زندگی سراسر امتحان ہے۔ جس کسی نے اس زندگی میں خالقِ کائنات کی خوشنودی والے کام کیے اس کو کامیاب قرار دیا جائے گا اور مرنے کے بعد ملنے والی دوسری ابدی زندگی اس قدر خوشحالی کی ہو گی کہ وہاں ہر طرح کی نعمتیں تو ہوں گی مگر کسی طرح کی بھی کوئی تکلیف یا مشقت نہ ہوگی۔ جنت میں جانے والا انسان وہ آرام و آسائش اور سدا بہار زندگی پائے گا جس کا حال بیان کرنا ناممکن ہے۔

عالمی حالات ہمہ وقت تغیّر پذیر رہتے ہیں۔ انسان اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے، زندگی کے لمحات گزارتا ہے اور رخصت ہو جاتا ہے۔ انسانوں سے خاندان، قبائل، معاشرے، شہر اور ملک بنتے ہیں، اس کے بعد قوموں اور تہذیبوں کا درجہ آتا ہے۔ انسانی زندگی پچاس ساٹھ سال ہوتی ہے، جبکہ تہزیبو ں کی زندگی پانچ چھ صدیاں ہوتی ہے۔ ماضی میں ہزاروں تہذیبیں اٹھیں، عروج کو پہنچیں، غرور و تکبر اور ظلم پر اتر آئیں اور پیوندِ خاک ہو گئیں۔۔۔

ہر شخص جانتا ہے کہ اس وقت نظامِ عالم ہر میدان میں انتشار کا شکار ہے، ہر طرف ایک خلفشار بپا ہے۔ سیاسی طور پر دیکھا جائے تو دنیا کے ہر گوشے میں عجیب سا اضطراب پایا جاتا ہے۔ ہر صاحبِ بصیرت یہ دیکھ رہا ہے کہ دنیا کے نظام سایست کا مستقبل سخت تاریک ہے۔ نظامِ اقتصاد، نظامِ سیاست سے کچھ بہتر نہیں، کساد بازاری اور مہنگائی اپنے عروج پر ہے، گھر کا ہر فرد کما رہا ہے پھر بھی گھریلو ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔۔۔۔

کوئی بھی مصیبت جو آتی ہے وہ بغیر اذنِ ربّ نہیں آتی، اس کی مشیّت کے بغیر نہیں آ سکتی۔ سورۃ الحدید کی آیت ۲۲ میں اس بات کو مزید واضح فرمایا کہ کوئی بھی مصیبت جو زمین میں یا تمہاری جانوں پر آتی ہے اس کے معرض وجود میں آنے سے قبل اس کی پوری تفصیل اللہ تعالٰی کے علم قدیم میں پہلے ہی سے موجود ہوتی ہے۔ اور سورۃ الروم میں فرمایا کہ بحر و بر میں جو فساد برپا ہو گیا ہے یہ لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے